پیرابولک اوسیلیٹر اعلیٰ و ادنیٰ نکات تلاش کرنے کی حکمت عملی
خلاصہ
یہ حکمت عملی مختلف ادوار کے موونگ ایوریج اور ویریئنس کا حساب لگا کر قیمت کے رجحان اور اتار چڑھاؤ کا تعین کرتی ہے، اس طرح اونچائیوں اور نیچائیوں کی شناخت ممکن ہوتی ہے۔
حکمت عملی کا اصول
اس حکمت عملی کا بنیادی منطق حالیہ مختلف ادوار کے موونگ ایوریج اور ویریئنس کا حساب لگانا ہے۔ خاص طور پر، بالترتیب پچھلے 5، 4 اور 3 دنوں کے موونگ ایوریج (ma, mb, mc) اور ویریئنس (da, db, dc) کا حساب لگایا جاتا ہے۔ پھر ان کا موازنہ کرکے سب سے زیادہ ویریئنس والے دور کو موجودہ رجحان کے نمائندے کے طور پر منتخب کیا جاتا ہے۔ آخر میں، اس دور کے موونگ ایوریج کو اس کے ویریئنس کے مربع سے ضرب دے کر حتمی آؤٹ پٹ وکر (wg) حاصل کیا جاتا ہے۔
اس طرح، جب قیمت اوپر یا نیچے کی طرف بریک آؤٹ کرتی ہے، تو رجحان کے نمائندہ دور اور ویریئنس میں بڑی تبدیلی آتی ہے۔ اس کے نتیجے میں حتمی آؤٹ پٹ wg میں بھی بڑی تبدیلی آتی ہے، جس سے اونچائیوں اور نیچائیوں کی شناخت ممکن ہوتی ہے۔
فوائد کا تجزیہ
مختلف ادوار کی بنیاد پر رجحان کی تبدیلی کا تعین کرنے کا یہ طریقہ کارگر ہے اور قیمت کے موڑ کو واضح طور پر شناخت کر سکتا ہے۔ ایک ہی دور پر مبنی تجزیہ کے مقابلے میں، ادوار کے اس مجموعے کو استعمال کرنے سے درستگی اور بروقت تشخیص میں بہتری آ سکتی ہے۔
موونگ ایوریج اور ویریئنس کا حساب لگانا بھی بہت آسان اور مؤثر ہے، اس میں کوڈ کی مقدار کم ہے اور یہ اچانک قیمت کی تبدیلیوں پر فوری ردعمل ظاہر کرتا ہے، جس سے بریک آؤٹ کا جلد پتہ چل جاتا ہے۔
خطرات کا تجزیہ
اس حکمت عملی میں استعمال ہونے والے ادوار مختصر ہیں، اس لیے درمیانی یا طویل مدتی تجزیے کے لیے تشخیص درست اور جامع نہیں ہو سکتی۔ قلیل مدتی قیمت کے اتار چڑھاؤ غلط تشخیص کا سبب بن سکتے ہیں۔
اس کے علاوہ، موونگ ایوریج اور ویریئنس کے وزن کا تعین بھی تشخیص کے نتائج کو متاثر کرتا ہے۔ اگر وزن کی ترتیب درست نہ ہو تو سگنلز غلط ہو سکتے ہیں۔
بہتری کے امکانات
مزید مختلف ادوار کے حساب کو شامل کرکے ادوار کا ایک مجموعہ تشکیل دیا جا سکتا ہے تاکہ تشخیص زیادہ جامع ہو۔ مثال کے طور پر، 10 دن، 20 دن جیسے درمیانی اور طویل مدتی ادوار بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
وزن کی ترتیب کے مختلف طریقوں کو بھی آزمایا جا سکتا ہے تاکہ وزن کے تعین میں لچک پیدا ہو۔ پیرامیٹرز کو بہتر بنا کر وزن کو مارکیٹ کے حالات کے مطابق خودکار طور پر ایڈجسٹ کیا جا سکتا ہے، جس سے غلط تشخیص کے امکانات کم ہوں گے۔
اس کے علاوہ، دیگر اشاریوں جیسے حجم کی غیرمعمولی تبدیلیوں کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے تاکہ غلط سگنلز سے بچا جا سکے جو آربیٹریج ٹریڈنگ کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔
خلاصہ
یہ حکمت عملی مجموعی طور پر واضح اور سمجھنے میں آسان ہے۔ یہ قیمت کے رجحان اور اتار چڑھاؤ کا تعین کرنے کے لیے موونگ ایوریج اور ویریئنس کا استعمال کرتی ہے، اور پھر انہیں ملا کر ایک وکر تیار کرتی ہے جو اونچائیوں اور نیچائیوں کو واضح طور پر شناخت کر سکتا ہے۔ ادوار کے اس مجموعے پر مبنی طریقہ مارکیٹ کی قلیل اور طویل مدتی خصوصیات کو مؤثر طریقے سے حاصل کر سکتا ہے، جس سے موڑ کے مقامات کی درست تشخیص میں بہتری آتی ہے۔ اس میں بہتری کی بھی کافی گنجائش ہے، جیسے ادوار، وزن اور دیگر اشاریوں میں تبدیلی کرکے حکمت عملی کو زیادہ مستحکم اور جامع بنایا جا سکتا ہے۔
- 1

